— فیلڈ نوٹ نمبر 4 —
ڈائنوسار کیوں معدوم ہوئے
مختصر جواب
چھیاسٹھ ملین سال پہلے لگ بھگ دس کلومیٹر چوڑا ایک سیارچہ آج کے میکسیکو کے ساحل کے پاس ایک اتھلے سمندر میں آ گرا۔ آسمان گرد سے ڈھک گیا، پودوں تک روشنی پہنچنا بند ہو گئی، اور تھوڑے ہی عرصے میں پرندوں کے سوا تمام ڈائنوسار مٹ گئے۔ پرندے بھی بے داغ نہیں بچے: ان کے کئی قدیم گروہ یہ تباہی نہ جھیل سکے۔

سب ختم نہیں ہوئے
شروع میں ہی ایک تصحیح ضروری ہے: ڈائنوسار ختم نہیں ہوئے۔ کھڑکی کے باہر چہکتی چڑیا ان کی سیدھی اولاد ہے۔ ارتقائی رشتے کے لحاظ سے پرندے ڈائنوساروں کے گروہ میں اسی طرح شامل ہیں جیسے چمگادڑ ممالیہ جانوروں میں۔ اسی لیے ماہرین ناپ تول کر بات کرتے ہیں: معدوم وہ ڈائنوسار ہوئے جو پرندے نہیں تھے۔ یہ رشتہ کہاں سے آیا، اس کی کہانی پروں والے مضمون میں ہے۔
تباہی اس گروہ سے کہیں باہر تک پہنچی۔ اڑنے والے ٹیروسار مٹ گئے، جن میں Pteranodon بھی تھا، اور سمندری چھپکلیاں بھی، جیسے Mosasaurus۔ یہ سب ڈائنوساروں کے ساتھ ہی ختم ہوئے، مگر اس سے ڈائنوسار نہیں بن گئے۔
سیارچے نے کیا کیا
ٹکراؤ کا زخم آج بھی میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاٹان پر چکشولوب گڑھے کی صورت میں موجود ہے۔ اس تصادم کے نشان دنیا بھر میں ملتے ہیں۔ کریٹاسیئس اور پیلیوجین کی سرحد پر ایک پتلی تہ ہے جس میں سیارچے کا مادہ اور معدنیات کے وہ ذرے محفوظ ہیں جو بے پناہ دباؤ سے پچک گئے۔ 2024 میں اسی تہ میں روتھینیم کے آئسوٹوپس سے پتا چلا کہ یہ مہمان آیا کہاں سے تھا: یہ ایک کاربنی سیارچہ تھا جو مشتری کے مدار سے پرے بنا تھا۔
مصیبت گرنے کی جگہ تک محدود نہیں رہی۔ 2023 کے حسابات کے مطابق اصل مجرم پتھر کی انتہائی باریک دھول تھی۔ کالک اور گندھک کے ساتھ مل کر یہ برسوں فضا میں معلق رہی اور تقریباً دو سال تک ضیائی تالیف کو روکے رکھا۔ اسی ماڈل کے مطابق زمین کی سطح پر درجۂ حرارت 15 ڈگری تک گر گیا۔ پہلے پودے اور پلانکٹن مرے، پھر انہیں کھانے والے، اور سب سے آخر میں شکاری۔
اور آتش فشاں؟
اسی زمانے میں آج کے بھارت کی سرزمین پر دکن ٹریپس سے لاوا بہہ رہا تھا۔ لاوے کے ایسے وسیع میدان آج زمین پر کہیں نہیں بنتے۔ آتش فشانی گیسیں آب و ہوا کو بدل رہی تھیں: 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ٹکراؤ سے تقریباً 30 ہزار سال پہلے ایک بڑے اخراج نے سیارے کو کم از کم 5 ڈگری ٹھنڈا کر دیا تھا۔ لیکن سیارچہ گرنے سے 20 ہزار سال پہلے ہی درجۂ حرارت معمول پر آ چکا تھا۔ اسی لیے اب آتش فشانوں کو ثانوی کردار دیا جاتا ہے، اگرچہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔
پہلے خیال تھا کہ ڈائنوسار ویسے بھی زوال کی طرف جا رہے تھے۔ 2025 کی تحقیقات الٹی بات کہتی ہیں۔ انواع کم اس لیے دکھائی دیتی ہیں کہ اس عمر کی چٹانیں کم بچی ہیں، جبکہ نیو میکسیکو میں ٹکراؤ سے پہلے کے آخری چند لاکھ سال تک ڈائنوساروں کی رنگا رنگ برادریاں آباد تھیں۔ Tyrannosaurus اور Triceratops ہارے ہوئے جانور نہیں تھے۔ بس دنیا بہت اچانک بدل گئی۔
کچھ کیوں بچ گئے اور کچھ کیوں نہیں
بچاؤ کا کوئی ایک نسخہ نہیں تھا۔ کسی کو چھوٹے قد نے بچایا، کسی کو ہر طرح کی خوراک کھا لینے کی عادت نے، کسی کو پانی میں رہنے نے یا کسی پناہ گاہ میں دبک کر بیٹھ جانے نے۔ نقصان سب نے اٹھایا۔ پرندوں کی بے شمار شاخیں ختم ہوئیں، ممالیہ جانوروں کی بھی۔
گروہ کا بچ جانا اس کی ہر نوع کا بچ جانا نہیں ہوتا۔ جو شاخیں سلامت رہیں، ان سے رفتہ رفتہ نئی شکلیں نکلیں اور ویران سیارہ پھر سے آباد ہو گیا۔ ڈائنوساروں کی کہانی وہاں ختم نہیں ہوئی۔ یہ ہر صبح قریب کی کسی منڈیر پر جاری رہتی ہے، جہاں پرندوں کے لیے دانہ ڈالا جاتا ہے۔
سوال و جواب
کیا سارے ڈائنوسار ختم ہو گئے؟
نہیں۔ وہ ڈائنوسار مٹے جو پرندے نہیں تھے، جبکہ کچھ پرندے اس تباہی سے بچ نکلے۔ آج کے تمام پرندے انہی کی نسل ہیں۔
چکشولوب گڑھا کہاں ہے؟
میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاٹان پر۔ گڑھے کا کچھ حصہ خشکی کے نیچے ہے اور کچھ سمندر کی تہ کے نیچے۔
معدومیت سیارچے کی وجہ سے ہوئی یا آتش فشانوں کی؟
سیارچے کی۔ دکن کے لاوے نے آب و ہوا ضرور بدلی، لیکن 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ٹکراؤ سے پہلے ہی وہ بحال ہو چکی تھی، اس لیے آتش فشانوں کو ثانوی کردار دیا جاتا ہے۔
مگرمچھ اور ممالیہ کیوں بچ گئے؟
سب کے لیے ایک ہی وجہ نہیں۔ الگ الگ شاخوں کو طرزِ زندگی اور خوراک کے کسی میل نے بچایا: چھوٹا قد، تھوڑے پر گزارا، چھپنے کی جگہیں، پانی۔


