— فیلڈ نوٹ نمبر 8 —
ٹریاسک، جراسک اور کریٹاسیئس: میسوزوئک کے تین دور
مختصر جواب
Tyrannosaurus اور ہمارے بیچ وقت کا فاصلہ اس سے کم ہے جتنا Tyrannosaurus اور Stegosaurus کے بیچ تھا۔ یہ مذاق نہیں، سیدھا حساب ہے۔ میسوزوئک عہد تقریباً 186 ملین سال پر پھیلا ہوا ہے اور تین ادوار میں بٹا ہے: ٹریاسک، جراسک اور کریٹاسیئس۔ اس عرصے میں ڈائنوسار نمودار ہوئے، پینجیا ٹوٹا، اور پودوں اور جانوروں کی دنیا کئی بار بدل گئی۔

ایک عہد، تین الگ دنیائیں
فلموں میں ہر زمانے کے ڈائنوسار ایک ہی میدان میں چرتے نظر آتے ہیں۔ حقیقت میں جراسک کے آخری حصے کے Stegosaurus اور کریٹاسیئس کے آخری حصے کے Tyrannosaurus کے بیچ 80 ملین سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے، یعنی Tyrannosaurus اور ہمارے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ۔ "میسوزوئک" کے ایک لفظ کے پیچھے بہت لمبی اور بہت رنگا رنگ تاریخ چھپی ہے۔
اس میں راستہ نہ بھولنے کے لیے ادوار کا پیمانہ اور قدیم دنیا کا نقشہ ہاتھ کے پاس رکھیے۔ پہلا بتاتا ہے کہ کون سا دور کس کے بعد آیا۔ دوسرا یاد دلاتا ہے کہ براعظم ہمیشہ وہاں نہیں تھے جہاں ہم انہیں دیکھنے کے عادی ہیں۔
ٹریاسک: ڈائنوسار منظر پر آتے ہیں
ٹریاسک دور تقریباً 252 سے 201 ملین سال پہلے تک رہا۔ لگ بھگ ساری خشکی ایک ہی عظیم براعظم، پینجیا، میں جڑی ہوئی تھی۔ اس کے اندرونی حصوں میں، سمندر سے دور، بہت سی جگہوں پر خشکی کا راج تھا، اگرچہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آب و ہوا ظاہر ہے بدلتی رہتی تھی۔
ڈائنوساروں کی سب سے پرانی غیر متنازع باقیات ٹریاسک کے آخری حصے کی ہیں اور تقریباً 230 ملین سال پرانی ہیں۔ یہ گروہ خود شاید کچھ پہلے وجود میں آ چکا تھا۔ اس وقت ڈائنوسار خشکی کے مالک نہیں تھے، بلکہ ثانوی کرداروں میں تھے۔ پہلے ٹیروسار بھی ٹریاسک ہی میں ہوا میں اڑے۔ دور کا خاتمہ ایک بڑی معدومیت پر ہوا، جس کے بعد جانوروں کی دنیا کا نقشہ بدل گیا۔
جراسک: دیو اور پہلے پرندے
جراسک دور تقریباً 201 سے 143 ملین سال پہلے تک چلا۔ اس کے آخری حصے نے مشہور ہستیوں کی پوری گیلری دی: Brachiosaurus، Diplodocus، Stegosaurus اور شکاری Allosaurus۔ اسی زمانے میں Archaeopteryx بھی رہتا تھا، ایک ابتدائی پرندہ جس میں شکاری ڈائنوساروں کی خصوصیات تھیں۔ 2025 میں چین سے ایک اور جراسک پرندہ، Baminornis، بیان کیا گیا، جس کی دم آج کے پرندوں کی طرح چھوٹی تھی۔
اس دور کے بڑے شکاریوں میں Torvosaurus کو بھی یاد رکھیے۔ اس دوران پینجیا ٹوٹ رہا تھا اور اس کے ٹکڑوں کے بیچ نئے سمندر کھل رہے تھے۔ براعظم بہت آہستہ سرکتے ہیں، لیکن کئی ملین برسوں میں اتنا کافی تھا کہ جانور الگ الگ کناروں پر جا پہنچیں۔
کریٹاسیئس: پھول، نئے چہرے اور عہد کا خاتمہ
کریٹاسیئس تینوں میں سب سے لمبا دور ہے، تقریباً 143 سے 66 ملین سال پہلے تک۔ اسی زمانے میں پھول دار پودے خشکی پر دور دور تک پھیل گئے۔ ڈائنوسار بہت تھے اور طرح طرح کے، لیکن سب سے مشہور ستارے، Tyrannosaurus اور Triceratops، بالکل آخری منظر میں نمودار ہوئے۔
پردہ 66 ملین سال پہلے گرا۔ کریٹاسیئس اور پیلیوجین کی سرحد پر بڑی معدومیت ہوئی اور وہ تمام ڈائنوسار مٹ گئے جو پرندے نہیں تھے۔ ٹھیک ٹھیک کیا ہوا، یہ ڈائنوساروں کی معدومیت والا مضمون بتاتا ہے۔ پرندے اس تباہی سے بچ نکلے، ڈائنوساروں کی واحد شاخ جو ہمارے زمانے تک پہنچی۔
سوال و جواب
میسوزوئک کا سب سے لمبا دور کون سا تھا؟
کریٹاسیئس، تقریباً 77 ملین سال۔ جراسک لگ بھگ 58 ملین سال رہا اور ٹریاسک تقریباً 50 ملین۔ یہ حدیں گول کی گئی ہیں۔
کیا Tyrannosaurus اور Stegosaurus ایک ہی زمانے میں رہتے تھے؟
نہیں۔ Stegosaurus جراسک کے آخری حصے سے معلوم ہے اور Tyrannosaurus کریٹاسیئس کے بالکل آخر سے۔ دونوں کے بیچ 80 ملین سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔
پہلے ڈائنوسار کب نمودار ہوئے؟
سب سے پرانے غیر متنازع ڈائنوسار 230 سے 233 ملین سال پرانے ہیں، یعنی ٹریاسک کے آخری حصے کے۔ یہ گروہ خود غالباً اس سے کچھ پرانا ہے۔ 2025 میں وائیومنگ سے ایک چھوٹا ڈائنوسار، Ahvaytum، بیان کیا گیا جس کی عمر تقریباً 230 ملین سال ہے۔ گویا پینجیا کے شمال میں بھی ڈائنوسار لگ بھگ اتنی ہی جلدی آباد تھے جتنی جنوب میں۔
Stegosaurus کی دم کے کانٹوں کو کیا کہتے ہیں؟
تھیگومائزر۔ یہ لفظ 1982 میں کارٹونسٹ گیری لارسن نے گھڑا، ماہرین نے مذاق مذاق میں اسے اپنا لیا، اور اب یہ سائنسی مقالوں اور عجائب گھروں میں بھی ملتا ہے۔



